قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی

Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی
قومی اسمبلی نے 18ہزار 700ارب سے زائد کے وفاقی بجٹ فنانس بل2026 کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی۔ اجلاس میں فنانس بل 2026/27 پیش کیا گیا، جس کی منظوری کے ساتھ ہی آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔ کل ضمنی گرانٹس کی منظوری دی جائے گی جبکہ وزیر خزانہ کی تحریک پر…

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایوان میں موجود تھے۔

اجلاس میں فنانس بل 2026/27 پیش کیا گیا، جس کی منظوری کے ساتھ ہی آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔ کل ضمنی گرانٹس کی منظوری دی جائے گی جبکہ وزیر خزانہ کی تحریک پر ایوان کا معمول کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا۔

فنانس بل پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی اور اپوزیشن کی جانب سے ترامیم پیش کرنے کا عمل جاری رہا۔

وزیر خزانہ نے رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کی ترامیم کی مخالفت کی تاہم اسپیکر نے اپوزیشن کو مختصر بحث کی اجازت دے دی۔

بل کے مطابق نئے مالی سال میں مختلف شعبوں میں ٹیکس اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔ انکم ٹیکس سلیب میں سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، جبکہ مختلف آمدنی کے سلیبز پر 1 فیصد سے 35 فیصد تک ٹیکس شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا اور آن لائن آمدن، بشمول یوٹیوب آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

فنانس بل میں جائیداد کی خرید و فروخت، بینکنگ، فرٹیلائزر اور کارپوریٹ سیکٹر پر مختلف شرحوں سے ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

امپورٹڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرحوں میں ردوبدل کیا گیا ہے، جبکہ کچھ کیٹیگریز میں کمی اور بعض میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں پر بھی مخصوص ڈیوٹی شرحیں نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پی آئی اے کے جہازوں کے پرزوں پر 15 سال تک سیلز ٹیکس چھوٹ دینے، اور بعض ویلفیئر و سرکاری اداروں کو ٹیکس استثنیٰ دینے کی تجاویز شامل ہیں۔ چھوٹی طلبہ کی سٹیشنری پر بھی رعایتی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فنانس بل میں فائلرز اور نان فائلرز سے متعلق قوانین سخت کرنے، ایف بی آر نوٹس کی خلاف ورزی پر جرمانے اور الیکٹرانک ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم کو لازمی بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ریٹرنز صرف الیکٹرانک طور پر جمع کرانے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے مختلف ترامیم پیش کیں اور بعض معاشی فیصلوں پر اعتراضات بھی اٹھائے، تاہم بل کی منظوری کا عمل جاری رہا۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے کو ہیں،اب ہمیں اپنا ٹون بدلنا ہوگا، جس انداز میں آپ نے بحیثیت اسپیکر آپ نے اس ہاؤس کو چلایا باوجود اس کے کہ آپ کا تجربہ تھا، آپ نے نہ آئین و قانون کا خیال رکھا اور چابک دستی سے اپنے 14 کولیگز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور کوٹ لکھپت کے قیدی سارے ستر سال سے اوپر تھے، کچھ تو خدا کا خوف کریں، آپ نے ریکارڈ قائم کیا، 5 لوگوں کو آپ نے 286 سال قید کی سزا دی ہے، آپ نے ماہ رنگ بلوچ کو بھی عمر بھر کی جیل دے دی، آپ نے آئین روندنے میں غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا۔

انہوں نےکہا کہ چیخ رہے تھے کشمیری، کل وفد آیا تھا چیخ رہے تھے کشمیری کہ ہمارے پاس آٹا نہیں کچھ نہیں، اس دن بات کی شہباز بھائی سے، جس انداز میں انہوں نے بات کی تھی مجھے مزہ نہیں آیا تھا، آپ کے پاس ٹائم تھوڑا ہے ارد گرد جو ہمارے علاقے میں ہو رہا ہے وہ بہت بڑی بربادی ہے۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ میرے بھائی نے کہا تھا پاکستان ہے تو ہم ہیں، بالکل ٹھیک کہا تھا شہباز بھائی پاکستان کوئی آسمان میں نہیں ہے، پاکستان مطلب بلوچستان سندھ خیبرپختونخوا پنجاب،آپ خیبرپختونخوا کو کیوں پاکستان نہیں سمجھتے، ہم سب نے حلف لیا ہے کہ ہم آئین پاکستان کی حفاظت کریں گے، آپ نے اپنے ووٹ کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹے ہیں۔

اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف ایوان میں پہنچ گئے، حکومتی ارکان نے ڈیسک بجاکر استقبال کیا، وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور دیگر اپوزیشن ارکان کی نشستوں پر جاکر ہاتھ ملایا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپوزیشن سے ہاتھ ملاکر نئی روایات کو جنم دیا ہے، یہ کبھی تین سال میں ہوا تھا ؟ وزیر اعظم نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکا معاہدہ ہوا ہے، آج ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے ساٹھ روز میں ایم او یو کے مطابق تکنیکی مذاکرات ہوں گے، ساٹھ روزبعد امریکہ ایران ایک مستقل عالمی امن معاہدے تک پہنچیں گے، کل کے دنیا تمام اخبارات نے پاکستان کی کامیابی سفارتکاری کی تعریف کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ایران کے صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں، آج ان کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیاں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے گفتگو ہوگی، آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا دن نہیں تھا، اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی وہ حقائق کے خلاف ہے، کہ یہ غیر قانونی حکومت ہے۔

ان کا کہنا تھا 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے، اس میں اگر جادوگری نہیں ہوئی اور بکسے نہیں بھرے گئے، اگر وہ جائز حکومت ہے تو یہ بھی جائز حکومت ہے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی نے 18ہزار 700ارب سے زائد کے وفاقی بجٹ فنانس بل2026 کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی اور اس کے بعد ایوان کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔



from تجارت https://ift.tt/7IoXzT5

Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)

0 Comments