Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)

سپر لانگ مارچ کا آغاز کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر جلسے سے ہوا، جہاں حافظ نعیم الرحمان نے شرکا سے خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مارچ کے شرکا رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے کراچی سے اگلے مرحلے کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ حیدرآباد، ٹنڈو آدم، نواب شاہ اور محراب پور ریلوے اسٹیشنز پر جماعت اسلامی کے کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے شرکا کا استقبال کیا جائے گا۔
شیڈول کے مطابق پہلے روز روہڑی سکھر میں رات 8 بجے جلسہ ہوگا جبکہ دوسرے روز مارچ کے شرکا شالیمار ایکسپریس کے ذریعے لاہور اور ملتان کی جانب سفر جاری رکھیں گے، گھوٹکی اور دیگر شہروں میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنان مارچ میں شامل ہوں گے۔
کراچی کینٹ اسٹیشن پر خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینا چاہیے، ان کی مشکلات میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور یہ تحریک بالآخر حکومت کو ہٹانے کی مہم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوامی مسائل اجاگر کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عالمی منڈی کی صورتحال کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کو ’’بھتہ ٹیکس‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ کراچی میں 35 روزہ دھرنے کے بعد احتجاجی مہم کا اگلا مرحلہ ہے، حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شدید گرمی میں دھرنا دینا ان کی خواہش نہیں بلکہ عوام کو درپیش مشکلات کے باعث احتجاج کرنا ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ متوسط طبقہ اپنے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے جبکہ حکومتی پالیسیوں اور بدانتظامی کے اثرات عوام کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر عوام گھروں میں بیٹھ کر حالات کو برداشت کرتے رہیں گے تو ان کا استحصال جاری رہے گا، انہوں نے ملک میں مختلف مافیاز کے اثر و رسوخ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ان مسائل کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بینکاری شعبے میں بھی ایک مخصوص طبقے کے کنٹرول کا الزام عائد کیا جبکہ آٹا اور چینی مافیاز کے حوالے سے بھی بااثر گروہوں کی پشت پناہی کے دعوے کیے۔
جماعت اسلامی کے احتجاجی مارچ کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے، جماعت اسلامی آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں، یعنی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے اور ان معاہدوں کو صارفین پر بوجھ قرار دیتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نئے ٹیکس اور چارجز عائد کرنے کے بجائے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک مزید وسعت اختیار کرسکتی ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق سپر لانگ مارچ کراچی سے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی جانب بڑھے گا اور راستے میں مختلف علاقوں سے جماعت اسلامی کے کارکنان اور حامی مارچ میں شامل ہوں گے۔
from Urdu News | پاکستان کی خبریں https://ift.tt/m6WPTUH
Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)
0 Comments
Post a Comment