Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)

شہری انتظامیہ نے نرخ نامے تو جاری کر دیے ہیں مگر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بیشتر دکاندار، خصوصاً پھل اور سبزی فروش، سرکاری قیمتوں کو ’غیر حقیقت پسندانہ‘ قرار دے کر نظر انداز کر رہے ہیں، جس کے باعث صارفین کو کئی اشیا سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر خریدنا پڑ رہی ہیں۔
قیمتوں کا تعین کس سے مشاورت کے بعد؟
انتظامیہ کے مطابق قیمتوں کا تعین چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن رؤف ابراہیم، سبزی و فروٹ فروش نمائندگان، کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ، ڈپٹی کمشنرز، بیورو آف سپلائی اور محکمہ خوراک کے حکام سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
گوشت کی قیمتوں میں اضافہ
رمضان سے قبل گوشت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے:
بون لیس بچھڑے کا گوشت
سرکاری قیمت: 1600 روپے فی کلو
مارکیٹ قیمت: 1700 تا 1800 روپے فی کلو
ہڈی والا بچھڑے کا گوشت
سرکاری قیمت: 1300 روپے فی کلو
مارکیٹ قیمت: 1400 روپے فی کلو
مٹن
سرکاری قیمت: 2200 روپے فی کلو
مارکیٹ قیمت: 2400 تا 2600 روپے فی کلو
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر مہنگے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔
روٹی اور نان کے نرخ
انتظامیہ کی مقررہ قیمتیں:
100 گرام چپاتی: 14 روپے
120 گرام تندوری نان: 18 روپے
140-150 گرام نان: 21 روپے
180 گرام نان: 27 روپے
مارکیٹ میں صورتحال:
چپاتی: 15 روپے
تندوری نان: 25 تا 30 روپے
اکثر تندوروں پر وزن اور قیمت واضح درج نہیں، جس سے صارفین کو اصل وزن کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔
آٹے اور چینی کی قیمتیں
سرکاری نرخ (6 فروری 2026):
آٹا نمبر 2.5: 107 روپے فی کلو
میدہ: 115 روپے فی کلو
چکی کا آٹا: 130 روپے فی کلو
مارکیٹ نرخ:
آٹا نمبر 2.5: 130 روپے
میدہ: 140 روپے
چکی کا آٹا: 150 تا 160 روپے فی کلو
چینی کی سرکاری قیمت 138 روپے مقرر کی گئی، جبکہ مارکیٹ میں 145 تا 160 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
دالیں اور دیگر اشیا
سرکاری قیمتیں:
ماش دھلی: 420 روپے
چنا دال: 230 روپے
کابلی چنا: 325 روپے
کالا چنا: 215 روپے
بیسن: 230 روپے فی کلو
مارکیٹ قیمتیں نمایاں طور پر زیادہ ہیں، جہاں بیسن 280 تا 400 روپے اور کابلی چنا تقریباً 400 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
انتظامیہ کے احکامات
کمشنر آفس کے مطابق تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ رمضان کے دوران سرکاری نرخوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
سپر اسٹورز کو رمضان کاؤنٹر قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان سے قبل مہنگائی بڑھ چکی ہے اور سرکاری نرخ نامے مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ صرف فہرستیں جاری کرنے کے بجائے عملی کارروائی کی جائے تاکہ منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات ہوں اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
from تجارت https://ift.tt/HDn93Gp
Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)
0 Comments
Post a Comment