Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)

سوئٹزرلینڈ کی University of Zurich کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ دماغ کے دو مخصوص حصوں کو ہلکے برقی جھٹکوں کے ذریعے متحرک کر کے انسانوں میں وقتی طور پر خود غرضی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے PLoS Biology میں شائع ہوئی ہے، جس میں 44 رضاکاروں کو شامل کیا گیا۔ شرکا سے کہا گیا کہ وہ ایک مخصوص رقم اپنے اور ایک گمنام شریک کے درمیان تقسیم کریں۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
تجربے کے دوران شرکا کے دماغ کے:
اگلے حصے (فرنٹل ایریا)
پچھلے حصے (پیریٹل ایریا)
کو بیک وقت ہلکے برقی جھٹکوں سے متحرک کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جب دونوں حصے ایک ساتھ متحرک ہوئے تو شرکا نے نسبتاً زیادہ رقم دوسرے فرد کو دینے کا فیصلہ کیا، یعنی ان کا رویہ زیادہ فراخدلانہ ہو گیا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر کرسچن رف کے مطابق بعض افراد دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں اور حد سے زیادہ خود غرض رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسے کیسز میں یہ طریقہ کار مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر طویل المدتی تبدیلی مطلوب ہو تو اس عمل کو بار بار دہرانا ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے باقاعدہ ورزش سے وقت کے ساتھ جسم میں تبدیلی آتی ہے۔
دماغی پیٹرن اور ایثار
سابقہ تحقیق میں بھی دیکھا گیا تھا کہ جب کوئی فرد فراخدلانہ فیصلہ کرتا ہے تو فیصلہ سازی اور ہمدردی سے متعلق دماغی حصے ایک ہی فریکوئنسی پر متحرک ہو کر باہمی رابطہ قائم کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق مختلف افراد میں ایک جیسے دماغی پیٹرن کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ایثار اور دوسروں کا خیال رکھنا انسانی دماغ میں فطری طور پر موجود ہے اور ارتقائی عمل کا حصہ ہے۔
ممکنہ طبی فوائد
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت:
سماجی رویوں کی بہتر سمجھ
بعض نفسیاتی اور دماغی امراض کے علاج
ہمدردی سے متعلق مسائل کی بہتری
میں مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا انگریزی ورژن، میٹا ڈسکرپشن اور کلیدی الفاظ بھی تیار کر دوں۔
from صحت https://ift.tt/pPmzcRa
Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)
0 Comments
Post a Comment