وزیراعظم شہباز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جنگ کے متحارب فریقوں ثالثی کروانے کیلئے تیار

Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جنگ میں متحارب فریقوں کے درمیان کشیدگی ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جنگ میں متحارب فریقوں کے درمیان کشیدگی ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ایک نیوز چینل کے اینکر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا ہمیں اس کی سمجھ نہیں، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کشیدگی ختم…

ہم نے کب کہا ہے اسرائیل کی حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے۔ رانا ثنا اللہ نے ذمہ داری کے ساتھ بتایا کہ پاکستان کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوشش کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کوششیں کی، اب بھی کوششیں جاری ہیں کہ فریقین کےدرمیان بات چیت ہو۔

پاکستان نےایران پرحملےکی مذمت کی ہے، وزیراعظم نے کل بتایا ہے دوسرے اسلامی ممالک سے بھی رابطہ ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بتایا جا رہا ہے آیت اللہ علی خامنہ ای کو کافی عرصے سے مانیٹر کیا جا رہا تھا، اس میٹنگ کا انتظار کیا جا رہا تھا جس میں ایران کی آدھی قیادت موجود تھی۔

ہم کسی کے بلاک میں نہیں ہیں سوالات کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے واضھ کیا کہ پاکستان کسی کے بلاک میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ہمیں کسی بلاک میں نہیں جانا چاہیے، ہمیں اپنے مفاد کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ صدرٹرمپ نے پاک بھارت جنگ میں مثبت کردار ادا کیا تھا۔ ان کا کردار پاکستان کے حق میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا، ہم نے کب کہا ہے اسرائیل کی حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جائے۔

ایک اور سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے ٹھوس لہجے میں جواب دیا، پاکستان ڈکلیئرڈ نیوکلیئر ریاست ہے، پاکستان کی طرف آنےکی کسی کی جرات نہیں،پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔

ہم افغانستان کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں؛ افغانستان کی اتنی حیثیت ہی نہیں! رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہیں۔ افغانستان کی حیثیت ہی نہیں کہ ہم ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں، افغانستان میں بھارتی اسلحہ آتا ہے،بی ایل اے، کالعدم ٹی ٹی پی بھی موجود ہے، ہمارا مقصد افغانستان سے جنگ اور قبضہ کرنا نہیں۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ افغانستان دہشتگردی میں ملوث نہ ہو،ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں دہشتگردی کا کوئی مرکز نہ ہو،افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز کو ختم کیا جائے گا، پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ تعاون کیا مگر وہاں سے کبھی ٹھنڈی ہوا نہیں آئی، ترکیہ اور قطر نے افغانستان کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔

ایک سوال کے جواب مین رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کووزیراعظم ہاؤس میں ہوئی اہم بریفنگ میں جانا چاہیے تھا۔ ملک کیلئےتحریک انصاف کو بریفنگ میں شرکت کرنی چاہیے تھا۔اگر کوئی بھی کمی تھی،پی ٹی آئی بتاتی،اس کو دیکھا جاتا۔ ممکن تھاکہ ڈی جی آئی ایس آئی آکر بریفنگ دیتے۔ پی ٹی آئی کو یا کسی کو بھی جو بھی کمی محسوس ہوتی اس کو پورا کیا جا سکتا تھا۔



from Urdu News | پاکستان کی خبریں https://ift.tt/Bv8EwWa

Free Online Image Converter Tool All Formats (JPG, WEBP, PNG, ICO, GIF, SVG)

0 Comments